Sunday, 17 May 2020
ابن مریم ہوا کرے کوئی ۔۔
Wednesday, 13 May 2020
سیلفی
گلی کی نکڑ پے سادہ سے لباس
میں ملبوس ایک لڑکا
بے تابی سے اپنی انگلیوں کا بار
بار چٹک رہا تھا ،
یوں لگ رہا تھا جیسے کسی کا انتظار کر
رہا ہو،
سامنے سے آتے شخص کے ہاتھ میں تھیلہ دیکھ کر
اِس کے چہرے کے تا
ثرات کچھ بدلے،
اَس شخص نے قریب آکر تھیلہ لڑکے کے حوالے کرتے ہوے کہا،
اس میں چند دن کا راشن ہے۔
ابھی وہ شخص تھیلہ تھماکے مڑا ہی تھا
کہ وہ لڑکا حیرت سے بولا،
بھیا ،،، سیلفی نہیں بناؤ گے ؟ !!
سیلفی اوپر والے نے بنا لی ہے
زیر لب مسکراتے اَس شخص
نے جواب دیا۔
Sunday, 10 May 2020
حاضری کا لمحہ
زندگی کے ان گنت رشتے تھے
اور ہر رشتے کا سرا اس تک پہنچاتا تھا
مگر ان سب کے باوجود ہمارہ آپس کا تعلق
بہت سرسری اور محض زبانی تھا
ایک مدت بیت گئی اور باقی تھوڑی رہ گئی
تو میری بے رخی کو یکسر نظر انداز کرکے
اس نے مجھے اپنے گھر بلالیا
کتنے بہانے حیلے تراشے، کتنے فسانے بنائے،
مگر میری ایک نہ چلی اور سب کچھ ہوتا چلا گیا
اور اس کے در کی حاضری کا لمحہ آ ن پہنچا
اس کے گھر کے جمال و جلال نے نگاہوں کو خیرہ کردیا
"
باب فہد
" کی سیڑھیوں پر دل آنسووں میں بہہ گیا
لبیک
اللھم لبیک ۔۔۔۔۔
ہا ئے۔۔۔۔! میرا لال
گھر کی تزئین و آرائش میں کوئی کمی نہ رہے ۔
" "کل میرا شیر آئے گا
چھت پر بیٹھی حاجرہ نے نیچے کی جانب رخ کرکے کہا۔
"جی اماں۔۔۔۔۔۔۔!
کمرے سے ایک ہلکی سی آواز آئی
حاجرہ کی نظریں جب بھی گھر کی جانب مڑنے والی
سڑک پر پڑتی اس کے چہرے کی جھریوں میں پھیلتی
مسکراہٹ سے ممتا کی شفقت و محبت نمایاں ہوجاتی۔
کمرے سے اچانک چیخ کی آواز آئی۔
"کیا ہوا بیٹی۔۔۔۔۔۔!"حاجرہ نے شور مچاتے ہوئے
چھت سے اتر کر کمرے کا رخ کیا۔
شازیہ کی آنکھوں میں اشکوں کا ایک طوفان امڈ آیا تھا
جبکہ ٹی وی پر ایک تازہ ترین خبر تھی۔
"کوئٹہ پولیس ٹریننگ سکول پر حملہ ،61افراد شہید "
"ہائے۔۔۔۔۔۔۔! میرا لال!"
حاجرہ زیرِ لب بڑ بڑاتے ہوئے بیہوش ہوگی۔
وہ تو لٹ چکی تھی ۔۔۔
وہ کاظم کو غلط رہ پر چلتا دیکھ رہی تھی۔
ہزار بار روکتی، سمجھاتی مگروہ
نہ سنتا ۔۔
ضمیر مرجائے تو کچھ سنائی دیتا
کب ہے؟
مومنہ
کے ہاتھ فائل لگی
جس میں ملک کی خفیہ جگہوں کا نقشہ تھا۔
فائل دُشمن تک پہنچانی تھی
ذمہ داری کاظم کی تھی۔
مومنہ کے پاس فائل دیکھ کر واپسی کا تقاضہ کیا۔
بات بڑھ کر طلاق تک پہنچ گئی۔۔
مومنہ کو لگا دھمکی ہے لیکن!
بےضمیر اِنسان نےطلاق دے دی۔
کاظم نے فائل کھینچی تو ٹیبل پر پڑی شیشے کی
وزنی پلیٹ اُسکو دے ماری اور بھاگ کھڑی ہوئی۔
وہ تو لٹ چکی تھی مگر ملک کو لٹتا
نہیں دیکھ سکتی تھی!!
اجازت ہو تو ۔۔۔
کافی دن سے سوچ رہا تھا کچھ نیا کھانا چاہیے۔
آج تنخواہ ملی اور چل پڑا فاسٹ فوڈ شاپ پر،
وہاں معلوم پڑا کہ کافی چیزں نئی ہیں، جیب مطابق
آرڈر دیا، اور کھانے بیٹھ گیا۔
جب سب کھا چکا تو ایک بچے پر نظر پڑی ۔
وہ ٹکٹکی باندھے مجھے دیکھ رہا تھا، شاید بھوکا تھا۔
میں توجہ دئے بغیر بل ادا کر کے واپس چلا۔
اچانک وہ بچہ بھاگتا ہوا آیا اور بولا۔
’’ آپ کے پچاس روپے وہاں گرے تھے،
مجھے بہت بھوک لگی ہے،
اگر اجازت ہو تو ان پیسوں کی روٹی لے لوں۔۔۔؟؟
میں اور بھیا کل سے بھوکے ہیں ۔۔۔۔ !!!
Thursday, 7 May 2020
کام ملے گا صاحب ۔۔۔
تین کپ چائے لے آ چھوٹے!
جی آگیا صاحب
وہ مُڑتے ہوئے ٹرے کا توازن برقرار نہ رکھ سکا
اور کپ زمین پہ جا گرے۔
لالے نے اسے ایک تھپڑ رسید کیا
اور کام سے نکال دیا۔
وہ منہ لٹکائے ایک اور دوکان پہ گیا ۔
کام ملے گا صاحب؟
کیا کام کر سکتے ہو؟ دوکاندار نے کہا۔
جو بھی مل جائے صاحب۔
اچھا کل آ جانا۔
اگلے دن وہ بیگ پہنے سکول کی طرف جا رہا تھا۔
دل لگا کر کام کرنا ۔ دوکاندار نے مسکراتے ہوئے
کہا۔
ماڈل گرل کون ۔۔۔
اماں
ابا اسے ڈانٹ رہے تھے
ارے شر م نہ آئی۔ سارے زمانے میں
ماڈل گرل ہی ملی تھی پسند کرنے کو
ہماری ناک کٹواؤ گے، لوگ کیا کہیں گے
لو بھلا کوئی بات ہوئی ،
یوں دنیا کے سامنے پیش ہونا اچھے کپڑے پہن سج بن کر
۔۔۔ بے حیائی ہے
نجانے کیسے ماں باپ ہوتے ہیں ایسی لڑکیوں کے
اچھا چھوڑو، کل تمہاری بہن کو دیکھنے
لڑکے والے آرہے ہیں،
بیٹی ، تم بیوٹی پارلر ہو آؤ
اور کل ذرا ڈھنگ سے تیار ہو کر ان کے
سامنے چائے پیش کرنا !
آوارگی ۔۔۔
آوارہ بدمعاش کہیں کا ۔۔۔!
ندا حسب
معمول اس کا محبت نامہ پھاڑتے ہوئے بڑبڑائی ۔
وہ محلے کی صغرا خالہ کا بھانجا حبیب تھا
جو نوکری کے سلسلے میں گاؤں سے آیا
تھا۔
ندا اپنے بیمار والدین , چھوٹے بھائیوں کی واحد
کفیل تھی ۔,
ایک دن ندا نوکری کے لئے گئی
تو اسے بھی شریک امیدوار پایا
۔
ٹیسٹ پیپر مشکل تھا ٗ
حبیب کی تذلیل کے لئے ندا کاپی پر کارٹون اور
اس کا نام لکھ آئی۔
دوسرے دن حبیب نہیں آیا—
مگر ندا کا نام کامیاب امیدواروں میں
پکارا گیا-
ندا ششدر رہ گئی --
ٹیسٹ کاپی میں حبیب کی
ہنڈ رائیٹنگ اس کے سامنے ناچ رہی تھی۔
مقدر کو آگ لگ گئی ۔۔
اس کے سوختہ جسم کو کپڑے سےڈھانپ دیا گیا۔
اب سے ایک گھنٹہ قبل وہ جیتی جاگتی خوبصورت
سی لڑکی تھی جو اپنی چوڑیاں
چھنکاتی کچن میں شوہر
کی فرمائش پہ بریانی بنانے
داخل ہوئی۔
ابھی اس نے ماچس کی تیلی جلائی ہی تھی کہ اس کے
مقدر کو بھی آگ لگ گئی ، وہ چلا بھی نہ سکی بس
آگ کے بلند شعلوں میں اس نے
ساس اور نند کو
مسکراتے ہوئے حیرت سے دیکھا ۔
اسے بابا کے جھکے کندھے ۔
جڑے ہاتھ اور بہتے آنسو دکھائی
دیے۔
جو کم جہیز دینے پہ اس کی ساس کے آگے پشیمان
تھے۔
شریفوں کی توہین ۔۔!
پرانے کپڑے ، ٹوٹی ہوئی سینڈل ، لمبی سیاہ رنگ
کی شالوں
سے بدن کو ڈھانپنے دونوں بہنیں ایک فٹ
پاتھ پر بیٹھ گئیں
اور وہ سکے گننے لگیں جو انھوں نے صبح سے ہی
حاصل کیے تھے۔
چھوٹی بہن نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ،
"ہمارے
پاس والد کے لئے دوائی لینے کے لئے اتنے
پیسے نہیں ہیں۔" اسی دوران وہاں ایک
بدمعاش آیا اور
بڑی بہن سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی۔
چھوٹی بہن نے اسے پوری طاقت سے تھپڑ مارا۔
وہ چیخنے لگا؛
وہاں جمع ہوئے لوگوں نے یہ کہتے ہوئے
اسےٹھندا کیا
ان پر لعنت بھیجیں جی
"ان سے الجھنا
شریف آدمی کی توہین ہے"
بہنیں خاموش رہیں لیکن ان کی آنکھوں میں آنسوؤں
کا سلسلہ تھا۔
پتیاں ۔۔۔
نتھلی والی اس خوبصورت سی لڑکی کا پارک میں
لوگوں
کو شدت سے انتظار رہتا تھا گیٹ
کیپر ، پارکنگ والے لڑکے
اور سیر کرنے والے اسے دیکھنے
کو بے تاب رہتے تھے ۔
لیکن وہ ہر چیز سے بے نیاز مین
دروازے کے باہر بیٹھے
پھولوں والے کے پاس رکتی ، کچھ
تکرار کے بعد گجرے
خریدتی اور پھر اپنے ساتھی کی
انگلیوں میں انگلیاں ڈالے
باغ کے اندر چلی جاتی ۔
اسے کبھی بھی اکیلی نہ دیکھا
گیا تھا ۔
کل صبح وہ اکیلی آئی اور گلدستہ لے کر چلی گئی
۔
آج شام بھی وہ اکیلی تھی ،
پھول والے نے پوچھا ، کیا دوں
؟
"پتیاں
" اُس نے جواب دیا ۔
تیسرا وار ۔۔۔
بیٹیا ں کل صبح سے
بھوکی ہیں۔۔
خدارہ کچھ تو کیجئے۔۔
ثریا بولی،
دماغ نہ کھاؤ ۔۔۔ اکبر جھنجلا کر بولا
آپ سے نہ مانگوں تو کس سے ۔۔ ؟
جاؤ اپنے بھائی سے مانگو
آپ میرے شوہر ۔۔ بھائی کیوں دیں!
اگر آپ سارے پیسے جوئے میں نہ اڑا دیں تو ۔۔
ثریا چپ
ہوگئی۔۔
اگر میں تمھارہ شوہر ہی نہ رہوں تو ؟
ثریا چیخی۔۔ کیا
جان تنگ آ گئی ہے تم سے اور تمھاری بیٹیوں سے۔۔
ایک بیٹا بھی تم نہ دے سکی
اس لیے میں تمھیں
طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں،
وار سے
پہلے ہی تیسرے
ثریا زمین
پر گری پڑی تھی !
پیٹھ دیکھا کے بھاگا۔۔۔
وہ آج بہت پریشان لگ رہا تھا میرے پوچھنے پر بولا ” آج میرا شیر جیسا بیٹا پیٹھ دیکھا کے بھاگ آیا ھے۔۔ میں نے اس دن کے لیے تو...












