میرے اور اس کے درمیان
زندگی کے ان گنت رشتے تھے
اور ہر رشتے کا سرا اس تک پہنچاتا تھا
مگر ان سب کے باوجود ہمارہ آپس کا تعلق
بہت سرسری اور محض زبانی تھا
ایک مدت بیت گئی اور باقی تھوڑی رہ گئی
تو میری بے رخی کو یکسر نظر انداز کرکے
اس نے مجھے اپنے گھر بلالیا
کتنے بہانے حیلے تراشے، کتنے فسانے بنائے،
مگر میری ایک نہ چلی اور سب کچھ ہوتا چلا گیا
اور اس کے در کی حاضری کا لمحہ آ ن پہنچا
اس کے گھر کے جمال و جلال نے نگاہوں کو خیرہ کردیا
"
باب فہد
" کی سیڑھیوں پر دل آنسووں میں بہہ گیا
لبیک
اللھم لبیک ۔۔۔۔۔

2 comments:
Amazing story. 10/10
اللہ سب کو اپنے در کی حاضری کا شرف عطا فرماٸے
Post a Comment