Sunday, 17 May 2020

ابن مریم ہوا کرے کوئی ۔۔











دو گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد اس کی باری آئی
 تو کرسی پے بیٹھے ڈاکٹر نے اسے دوائی لکھ دی

 لیکن ،،، میں تو ڈاکٹر انجم کو چیک کروانا چاہتا ہوں
..پچھلی سیٹ پہ بیٹھے ڈاکٹر انجم نے اسے گھور کے دیکھا
 اور سلام کا جواب بھی نہیں دیا

آپ کا کوئی ریفرنس ہے گورنمنٹ ہسپتال میں
ریسپشن والی کرسی پہ بیٹھے شخص نے پوچھا ؟؟

جی نہیں ۔۔

اچھا تو آپ ایسا کریں ان کے پرائیوٹ کلینک
 پہ چلے جائیں ان کی فیس بس تین ہزار ہی ہے

شام کووہ جب کلینک پہنچا تو ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے چہرے
 کےساتھ نا صرف خوش آمدید کہا
 بلکہ اپنی کرسی سے
 اٹھ کے گرم جوشی کےساتھ ہاتھ بھی ملایا

5 comments:

Anonymous said...

Great post, keep it up buddy

Pkwingz said...

Good struggle.. very nice story

Tahir said...

bohat acha likhtey hein aap.. 👍

Tahir said...

bohat acha likhtey hein aap.. 👍

Tahir said...

بہت اچھا انداز ھے آپ کا۔۔ جاری رکھیں

پیٹھ دیکھا کے بھاگا۔۔۔

  وہ آج بہت پریشان لگ رہا تھا   میرے پوچھنے پر بولا ”  آج میرا شیر جیسا بیٹا پیٹھ دیکھا کے   بھاگ آیا ھے۔۔   میں نے اس دن کے لیے تو...