اماں
ابا اسے ڈانٹ رہے تھے
ارے شر م نہ آئی۔ سارے زمانے میں
ماڈل گرل ہی ملی تھی پسند کرنے کو
ہماری ناک کٹواؤ گے، لوگ کیا کہیں گے
لو بھلا کوئی بات ہوئی ،
یوں دنیا کے سامنے پیش ہونا اچھے کپڑے پہن سج بن کر
۔۔۔ بے حیائی ہے
نجانے کیسے ماں باپ ہوتے ہیں ایسی لڑکیوں کے
اچھا چھوڑو، کل تمہاری بہن کو دیکھنے
لڑکے والے آرہے ہیں،
بیٹی ، تم بیوٹی پارلر ہو آؤ
اور کل ذرا ڈھنگ سے تیار ہو کر ان کے
سامنے چائے پیش کرنا !

2 comments:
Its reflect thre thought of society.
ہمیں ابھی بھی 100 سال لگیں گے اپنی سوچ کو میچور کرنے میں
Post a Comment