Thursday, 7 May 2020

ماڈل گرل کون ۔۔۔











 اماں ابا اسے ڈانٹ رہے تھے

ارے شر م نہ آئی۔ سارے زمانے میں

ماڈل گرل ہی ملی تھی پسند کرنے کو

ہماری ناک کٹواؤ گے،  لوگ کیا کہیں گے

لو بھلا کوئی بات ہوئی ،

یوں دنیا کے سامنے پیش ہونا   اچھے کپڑے پہن سج بن کر

۔۔۔  بے حیائی ہے

نجانے کیسے ماں باپ ہوتے ہیں ایسی لڑکیوں کے


اچھا چھوڑو، کل تمہاری بہن کو دیکھنے

لڑکے والے آرہے ہیں،

بیٹی ،  تم بیوٹی پارلر ہو آؤ

اور کل ذرا ڈھنگ سے تیار ہو کر ان کے

 سامنے چائے پیش کرنا  !

 

آوارگی ۔۔۔











آوارہ بدمعاش کہیں کا ۔۔۔!

 ندا     حسب معمول اس کا محبت نامہ پھاڑتے ہوئے   بڑبڑائی ۔

وہ محلے کی صغرا  خالہ کا بھانجا حبیب تھا

 جو نوکری کے سلسلے میں گاؤں  سے آیا تھا۔

ندا اپنے بیمار والدین , چھوٹے بھائیوں کی واحد کفیل تھی ۔,

ایک دن ندا نوکری کے لئے گئی

 تو اسے بھی شریک امیدوار پایا ۔

ٹیسٹ پیپر مشکل تھا ٗ 

حبیب کی تذلیل کے لئے ندا کاپی پر کارٹون اور

اس کا نام لکھ آئی۔

دوسرے دن حبیب نہیں آیا

مگر ندا کا نام کامیاب امیدواروں میں

پکارا گیا-

 ندا ششدر رہ گئی --

 ٹیسٹ کاپی میں حبیب  کی

ہنڈ رائیٹنگ اس کے سامنے ناچ رہی تھی۔

 

مقدر کو آگ لگ گئی ۔۔









اس کے سوختہ جسم کو کپڑے سےڈھانپ دیا گیا۔

اب سے ایک گھنٹہ قبل وہ جیتی جاگتی خوبصورت

 سی لڑکی تھی جو اپنی چوڑیاں چھنکاتی کچن میں شوہر

 کی فرمائش پہ بریانی بنانے داخل ہوئی۔

ابھی اس نے ماچس کی تیلی جلائی ہی تھی کہ اس کے

 مقدر کو بھی آگ لگ گئی ،    وہ چلا بھی نہ سکی بس

 آگ کے بلند شعلوں میں اس نے ساس اور نند کو

 مسکراتے ہوئے حیرت سے دیکھا ۔

اسے بابا کے جھکے کندھے ۔

 جڑے ہاتھ اور بہتے آنسو دکھائی دیے۔

جو کم جہیز دینے پہ اس کی ساس کے آگے پشیمان تھے۔

شریفوں کی توہین ۔۔!








پرانے کپڑے ، ٹوٹی ہوئی سینڈل ، لمبی سیاہ رنگ کی شالوں

سے بدن کو  ڈھانپنے دونوں بہنیں ایک فٹ پاتھ پر بیٹھ گئیں

اور وہ سکے گننے لگیں جو انھوں نے صبح سے ہی حاصل کیے تھے۔

چھوٹی بہن نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ،

"ہمارے پاس والد کے لئے دوائی لینے کے لئے اتنے

پیسے نہیں ہیں۔" اسی دوران وہاں ایک بدمعاش آیا اور

بڑی بہن سے چھیڑ چھاڑ  کی کوشش کی۔

چھوٹی بہن نے اسے پوری طاقت سے تھپڑ مارا۔

وہ چیخنے لگا؛

وہاں جمع ہوئے لوگوں نے یہ کہتے ہوئے اسےٹھندا  کیا

ان پر لعنت بھیجیں  جی

 "ان سے الجھنا  شریف آدمی کی توہین   ہے"


بہنیں خاموش رہیں لیکن ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سلسلہ تھا۔

 

پتیاں ۔۔۔










نتھلی والی اس خوبصورت سی لڑکی کا پارک میں لوگوں

 کو شدت سے انتظار رہتا تھا گیٹ کیپر ، پارکنگ والے لڑکے

 اور سیر کرنے والے اسے دیکھنے کو بے تاب رہتے تھے ۔

 لیکن وہ ہر چیز سے بے نیاز مین دروازے کے باہر بیٹھے

 پھولوں والے کے پاس رکتی ، کچھ تکرار کے بعد گجرے

 خریدتی اور پھر اپنے ساتھی کی انگلیوں میں انگلیاں ڈالے 

باغ کے اندر چلی جاتی ۔

 اسے کبھی بھی اکیلی نہ دیکھا گیا تھا ۔

کل صبح وہ اکیلی آئی اور گلدستہ لے کر چلی گئی ۔

آج شام بھی وہ اکیلی تھی ،

 پھول والے نے پوچھا ، کیا دوں ؟

"پتیاں " اُس نے جواب دیا ۔

 

تیسرا وار ۔۔۔







      بیٹیا ں کل صبح سے بھوکی ہیں۔۔

  خدارہ کچھ تو کیجئے۔۔

ثریا بولی،

 دماغ نہ کھاؤ ۔۔۔ اکبر  جھنجلا کر بولا

آپ سے نہ مانگوں تو کس سے ۔۔ ؟

جاؤ اپنے بھائی سے مانگو

آپ میرے شوہر ۔۔ بھائی کیوں دیں!

اگر آپ سارے پیسے جوئے میں نہ اڑا دیں تو ۔۔

ثریا     چپ ہوگئی۔۔

اگر میں تمھارہ شوہر ہی نہ رہوں تو ؟  

ثریا   چیخی۔۔  کیا 

جان تنگ آ گئی ہے تم سے اور تمھاری بیٹیوں سے۔۔

ایک بیٹا بھی تم نہ دے سکی  

اس لیے میں تمھیں  

طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں،

  وار    سے پہلے  ہی  تیسرے

ثریا     زمین پر گری پڑی تھی  !

اونچی ناک...









بچوں کی شادی کرنے کے بعد ماسٹر دین محمد کی

 بیوی وفات پا گئی تھی۔

ماسٹر کا ہر بیٹا اور بہو اس کی ذمہ داری

 دوسرے پر ڈال دیتے۔

بچے رات دیر سے سوتے اور دیر سے اٹھتے ،

 اسے صبح ناشتے کے لیے دیر تک انتظار کرنا پڑتا۔

ایک رات سب سو گئے اورکسی نے اسے  کھانا نہ دیا۔

ماسٹر نے ہر کسی کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر کسی نے

 دروازہ نہ کھولا

ماسٹر دین محمد بھوک سے مر گیا۔۔


اور اگلے دن ماسٹر کے بڑے بیٹے نے برادری میں ناک

 اور ساکھ کی خاطر

دس دیگیں گوشت کی پکائیں۔

بچے من کے سچے ۔۔۔








فریحہ اپنے چار سالہ بیٹے اسد کے ساتھ بالکونی سے باہر

 کا نظارہ کر رہی تھی- کہ اسے کچھ بچے نظر آئے جو

 " رام نام سچے ہیں "  کی گردان کر رہے تھے کہ

 اچانک کسی کی آواز گونجی۔۔

تمہارا باپ مر گیا ہے کیا؟

یہ سن کر بچوں کو سانپ سونگھ گیا اور وہ خاموشی سے 

وہاں سے چلے گئے،

مما : یہ کیا کہہ رہے تھے؟ ننھے اسد نے سوال کیا

کچھ نہیں بیٹا یہ بہت گندے بچے تھے یہ بہت بری

 بات کر رہے تھے–

چلو بس اب اندر چلتے ہیں

ٹن ٹن ،،،،۔ٹن ،،،،

مما پپا آگئے –

پپا   ایک منٹ رکیں

مما۔۔!

پپا کی آرتی اُتارتے ہیں –

دیکھیں نا ں    پپا  کتنے اچھے لگ رہے ہیں

فریحہ نے اپنی شرمندگی پر با مشکل قابو پاتے ہوئے کہا –

دیکھا آپ نے یہ کتنا شریر ہو گیا ہے !-

 

پیٹھ دیکھا کے بھاگا۔۔۔

  وہ آج بہت پریشان لگ رہا تھا   میرے پوچھنے پر بولا ”  آج میرا شیر جیسا بیٹا پیٹھ دیکھا کے   بھاگ آیا ھے۔۔   میں نے اس دن کے لیے تو...