نتھلی والی اس خوبصورت سی لڑکی کا پارک میں
لوگوں
کو شدت سے انتظار رہتا تھا گیٹ
کیپر ، پارکنگ والے لڑکے
اور سیر کرنے والے اسے دیکھنے
کو بے تاب رہتے تھے ۔
لیکن وہ ہر چیز سے بے نیاز مین
دروازے کے باہر بیٹھے
پھولوں والے کے پاس رکتی ، کچھ
تکرار کے بعد گجرے
خریدتی اور پھر اپنے ساتھی کی
انگلیوں میں انگلیاں ڈالے
باغ کے اندر چلی جاتی ۔
اسے کبھی بھی اکیلی نہ دیکھا
گیا تھا ۔
کل صبح وہ اکیلی آئی اور گلدستہ لے کر چلی گئی
۔
آج شام بھی وہ اکیلی تھی ،
پھول والے نے پوچھا ، کیا دوں
؟
"پتیاں
" اُس نے جواب دیا ۔

3 comments:
Love never dies
لوگ مرجاتے ہیں مگر محبت نہیں مرتی
لوگ مرجاتے ہیں مگر محبت نہیں مرتی
Post a Comment