Saturday, 7 November 2020

_____ قرض


جوانی کا جوش چڑھا تو محبوبہ کا پیٹ بڑھا مگر یہ اُس کے لئے کوئی نئی بات نہیں تھی
کاریگر بندہ تھا بس میڈیکل سٹور سے مطلوبہ دوائی لی اور محبوبہ تک پہنچا دی 
بس دو چار اُلٹیاں ہی تو آنی تھیں اور اس کے بعد مسئلہ حل .....
اب اتنی سی بات پر بھلا وہ کیوں پریشان ہوتا ۔۔۔ 
گانے گاتا گھر میں داخل ہوا تو اماں نے کہا بیٹا بہن کو ہسپتال لے جا طبیعت بڑی خراب ہے اُس کی
 کیا ہوا ہے اس کو ۔۔۔
اس نے ماں سے پوچھا
ماں نے صحن میں پڑی آدھ موئی بیٹی کی طرف دیکھا اور بولی
پتہ نہیں
صبح سے بس اُلٹیاں کیے جا رہی ہے

زنا ایک ادھار ہے جس کی ادئیگی تمہارے گھر سے ہو گی ۔۔۔۔۔ 

  

 

 


1 comment:

Tahir said...

بہت خوب سر۔۔۔ حقیقت اس سے مختلف نہیں

پیٹھ دیکھا کے بھاگا۔۔۔

  وہ آج بہت پریشان لگ رہا تھا   میرے پوچھنے پر بولا ”  آج میرا شیر جیسا بیٹا پیٹھ دیکھا کے   بھاگ آیا ھے۔۔   میں نے اس دن کے لیے تو...