دو گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد اس کی باری آئی
تو کرسی پے بیٹھے ڈاکٹر
نے اسے دوائی لکھ دی
لیکن ،،، میں تو ڈاکٹر
انجم کو چیک کروانا چاہتا ہوں
..پچھلی سیٹ پہ بیٹھے ڈاکٹر انجم نے اسے گھور کے دیکھا
اور سلام کا جواب بھی
نہیں دیا
آپ کا کوئی ریفرنس ہے گورنمنٹ ہسپتال میں
ریسپشن والی کرسی پہ بیٹھے شخص نے پوچھا ؟؟
جی نہیں ۔۔
اچھا تو آپ ایسا کریں ان کے پرائیوٹ کلینک
پہ چلے جائیں ان کی
فیس بس تین ہزار ہی ہے
شام کووہ جب کلینک
پہنچا تو ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے چہرے
کےساتھ نا صرف خوش آمدید
کہا
بلکہ اپنی کرسی سے
اٹھ کے گرم جوشی کےساتھ
ہاتھ بھی ملایا

5 comments:
Great post, keep it up buddy
Good struggle.. very nice story
bohat acha likhtey hein aap.. 👍
bohat acha likhtey hein aap.. 👍
بہت اچھا انداز ھے آپ کا۔۔ جاری رکھیں
Post a Comment