Sunday, 10 May 2020

وہ تو لٹ چکی تھی ۔۔۔










وہ کاظم کو غلط رہ پر چلتا دیکھ رہی تھی۔

 ہزار بار روکتی، سمجھاتی مگروہ نہ سنتا ۔۔
ضمیر مرجائے تو کچھ سنائی دیتا کب ہے؟

مومنہ کے ہاتھ فائل لگی 

جس میں ملک کی خفیہ جگہوں کا نقشہ تھا۔
فائل دُشمن تک پہنچانی تھی

 ذمہ داری کاظم کی تھی۔

مومنہ کے پاس فائل دیکھ کر واپسی کا تقاضہ کیا۔ 

بات بڑھ کر طلاق تک پہنچ گئی۔۔
مومنہ کو لگا دھمکی ہے لیکن!
بےضمیر اِنسان نےطلاق دے دی۔

کاظم نے فائل کھینچی تو ٹیبل پر پڑی شیشے کی 

وزنی پلیٹ اُسکو دے ماری اور بھاگ کھڑی ہوئی۔

وہ تو لٹ چکی تھی    مگر ملک کو لٹتا نہیں دیکھ سکتی تھی!!

 


2 comments:

Pkwingz said...

Very good. Sabi ko aisa he hona chaiey

Tahir said...

اللہ سب کو ایسا حوصلہ اور ہمت عطا فرماۓ

پیٹھ دیکھا کے بھاگا۔۔۔

  وہ آج بہت پریشان لگ رہا تھا   میرے پوچھنے پر بولا ”  آج میرا شیر جیسا بیٹا پیٹھ دیکھا کے   بھاگ آیا ھے۔۔   میں نے اس دن کے لیے تو...